“بند مطلب بند” — 8 فروری کو ملک جام کرنے کی دھمکی، عوامی زندگی مفلوج ہونے کا خدشہ
اسٹریٹ موومنٹ کے اعلان نے شہریوں کی نیندیں اڑا دیں، حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ

8 فروری کو “بند مطلب بند” کے نعرے کے تحت پورے ملک کو جام کرنے کے اعلان نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کو جنم دے دیا ہے۔ مختلف شہروں میں سڑکیں بند کرنے، ٹرانسپورٹ روکنے اور معمولاتِ زندگی درہم برہم کرنے کی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ جیسے سنگین مسائل سے گزر رہا ہے۔ جب بھی ملک ترقی کی راہ پر چلنا شروع کرتا ہے تو نہ جانے کون سا کیڑا کچھ عناصر کے اندر جاگ اٹھتا ہے، جو دباؤ اور انتشار کے ذریعے عوام کا سکون برباد کر دیتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر یا تو یہیں پیدا ہو چکے ہیں یا پھر کہیں اور سے آ کر ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق سڑکیں بند کرنے اور زبردستی ہڑتالوں سے سب سے زیادہ نقصان مریضوں، طلبہ، مزدوروں اور روزانہ کمانے والوں کو ہوتا ہے۔ ایمبولینسز پھنس جاتی ہیں، دفاتر بند ہو جاتے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہیں، جس سے قومی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ شہریوں کا سوال ہے کہ کیا احتجاج کے نام پر پورے ملک کو یرغمال بنا لینا کوئی حل ہے؟

عوام نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی کی جائے اور ان کا “مناسب علاج” کروایا جائے، تاکہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو چاہیے کہ امن، ترقی اور عوامی سکون کے خلاف سازش کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے اور پاکستان کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے۔