اُمیری ویڈیو کے بعد گلیوں میں لڑکیوں کو تنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

صرف ویڈیو نہیں، عوامی مقامات پر نام لے کر آوازیں کسنے والے بھی قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں
اُمیری اور اس کی ساتھی کی وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد ایک نیا اور تشویشناک سماجی مسئلہ سامنے آ گیا ہے، جس میں بعض عناصر گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات پر لڑکیوں کے گزرنے کے دوران اُمیری کا نام لے کر آوازیں کس رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ کھلی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، جو نہ صرف خواتین کی عزت و وقار کے منافی ہے بلکہ موجودہ قوانین کے تحت قابلِ سزا جرم بھی ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف ویڈیو میں ملوث افراد ہی نہیں بلکہ ایسی نازیبا حرکات کرنے والوں کے خلاف بھی فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اس معاملے کا نوٹس لینے اور صوبے بھر میں عوامی ہراسانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ خواتین خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
