ایک ماہ کیلئے اتوار کو تمام کمرشل سرگرمیاں بند کرنی چاہئیں،لاہور ہائیکورٹ کی سموگ تدارک کیس میں تجویز
سموگ تدارک کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ تجویز ہے ایک ماہ کیلئے اتوار کو تمام کمرشل سرگرمیاں بند کرنی چاہیئیں،جسٹس شاہد کریم نے کہایہ میری تجویز ہے، ہمیں ایک دو ماہ یا کچھ ہفتے ایسا کرنا پڑے گا، شادی ہالز پر بھی نظر رکھیں،10بجے ہالز بند ہونے چاہئیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،عدالتی حکم پر ڈپٹی کمشنر لاہور سید محسن رضا عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے کہاکہ تجویز ہے ایک ماہ کیلئے اتوار کو تمام کمرشل سرگرمیاں بند کرنی چاہئیں،جسٹس شاہد کریم نے کہایہ میری تجویز ہے، ہمیں ایک دو ماہ یا کچھ ہفتے ایسا کرنا پڑے گا، شادی ہالز پر بھی نظر رکھیں،10بجے ہالز بند ہونے چاہئیں۔
عدالت نے کہاکہ ون ڈش کی خلاف ورزی بھی ہو رہی ہے لیکن اس کا ماحولیات سے تعلق نہیں،مارکیٹس 10بجے بند کرنے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،نوٹیفکیشن 2023کا ہے، اس پر عملدرآمد کرائیں۔
ڈی سی نے کہا نوٹیفکیشن کے مطابق بازار10اور ریسٹورنٹس 11بجے بند ہوں گے،عدالت نے کہا کہ شہر میں 5منٹ کیلئے بھی ٹریفک بلاک نہیں ہونی چاہئے،محکمہ ماحولیات کے موٹربائیکس سکواڈز گشت پر رہیں،یہ کام3ماہ پہلے شروع ہونا چاہئے تھا، اب جو ہونا تھا ہو گیا۔
عدالت نے کہاکہ 6ماہ سے واسا کے تعمیراتی کام جاری ہیں،واسا کے منصوبے شروع ہوتے ہیں، ختم ہونے کا نام نہیں لیتے،بڑے بڑے پائپ 6ماہ پہلے سڑکوں پر رکھ دیئے گئے،اس وجہ سے حادثات ہو رہے ہیں، یہ کیا طریقہ کار ہے؟ شہر میں اتنی مٹی کردی گئی جس کی کوئی حد نہیں،جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ ہر بندہ اپنی ذمہ داری پوری کرے، یہ میرے اکیلے کا کام تو نہیں،عدالت نے کہا کہ واسا اور ایل ڈی اے کو جرمانے کیوں نہیں کرتے؟جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ واسا کل تمام منصوبوں کی تفصیلات عدالت میں پیش کرے۔
وکیل واسا نے تفصیلات جمع کرانے کیلئے جمعہ تک کا وقت دینے کی استدعا کی۔عدالت نے انسداد سموگ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔