بھارت کی موجودہ قیادت نے ملک کی سیکولر شناخت اور جمہوری روایت کو یکسر تہہ و بالا کر دیا ہے۔ کبھی جواہر لال نہرو کے زمانے میں بھارت سیکولرازم اور جمہوریت کا علمبردار تھا، جس پر دنیا فخر کرتی تھی، مگر نریندر مودی نے، جو بچپن سے ہی راشٹریہ سیوک سنگھ (RSS) کی انتہا پسند تنظیم میں پرورش پا چکے ہیں، گجرات کے وزیراعلیٰ کے طور پر نفرت اور مذہبی بنیاد پر پھیلائی جانے والی خونریزی کا عملی مظاہرہ کیا۔ 2002 کی مسلم کش مہم میں تین ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے، ہزاروں کے گھر، کاروبار اور عبادت گاہیں تباہ ہوئیں، اور مودی نے خود کو “گجرات کا قصاب” کے لقب سے منسلک کر لیا۔ اس سفاکانہ منصوبہ بندی اور بے رحمی کے باوجود عالمی طاقتیں، بشمول امریکہ، نے مودی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، حالانکہ وہ اس قتل و غارت گری کا براہِ راست حصہ تھا۔
مودی نے اپنی سیاسی حکمت عملی کے طور پر مذہب کی بنیاد پر نفرت کی فصل پروان چڑھائی اور پاکستان دشمنی کو اپنی سیاست کا بنیادی جزو بنایا۔ پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات، مبینہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور خوارج و انتشاری عناصر کو پروان چڑھانا اس کی ترجیحات میں شامل رہا۔ یہی وہ کلید ہے جس کے ذریعے وہ گیارہ برس سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر قابض ہے۔ اس کے دور میں بھارت میں مسلمانوں کے حقوق مسلسل سلب کیے گئے اور اقلیتیں خوف و ہراس کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئیں۔
کشمیر کی صورتحال اس کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے، جہاں گزشتہ تین دہائیوں میں 90 ہزار سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں، پچیس ہزار خواتین بیوہ ہو گئی ہیں، اور دس ہزار سے زائد نوجوان خواتین کی عصمتیں تاراج ہو چکی ہیں۔ جیلوں میں سینکڑوں نوجوان اپنا وقت گزار رہے ہیں اور عبادت گاہیں، کاروبار، گھر اور جائیدادیں محفوظ نہیں۔ مودی کے اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں خوف، دہشت اور عدم تحفظ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔سات لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کی موجودگی اور ہر گلی، ہر محلے میں چوکیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ بھارت نہ صرف کشمیری عوام پر دباؤ ڈال رہا ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔
پہلگام جیسے معروف سیاحتی مقامات پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے بھی اس بات کا مظہر ہیں کہ بھارتی حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں ناکامی یا جان بوجھ کر عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں کو موقع ملا کہ وہ درجنوں سیاحوں کو شہید کریں، مگر بھارتی دعووں کے مطابق کوئی ثبوت پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے بارے میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود بھارت ہر موقع پر پاکستان پر الزام تراشی کرتا ہے اور جنگی جنون کو ہوا دیتا ہے۔مودی حکومت کی سفاکانہ سیاست صرف مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی داخلی سیاست میں بھی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق مسلسل پامال ہو رہے ہیں۔ وہ نفرت اور مذہبی تعصب کے ذریعے عوام کے جذبات کو اشتعال دلاتے ہیں اور اپنی سیاسی مقاصد کے لیے ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بھارتی معاشرہ تحمل، برداشت، ہمدردی اور مذہبی رواداری جیسی انسانی اقدار سے عاری ہو چکا ہے، اور یہ رویہ عالمی سطح پر بھی اپنی عکاسی رکھتا ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے۔مودی کے دور میں بھارت کی خارجہ پالیسی بھی جارحانہ اور پاکستان دشمنانہ رہی ہے۔ وہ ہر موقع پر پاکستان پر جھوٹے الزامات عائد کرتا ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ حالیہ دہشت گردانہ حملوں، کشمیری عوام پر ظلم و جبر اور داخلی تشدد کی کارروائیوں کے پس منظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی کی حکمت عملی نفرت، اشتعال اور جارحیت پر مبنی ہے۔ اس کی سیاست میں پاکستان دشمنی اور مسلمانوں کے حقوق کی پامالی بنیادی جزو ہیں۔مودی کی حکومت کے ذریعے پھیلائی جانے والی نفرت اور انتہا پسندی نے بھارت کو داخلی و خارجی سطح پر خطرناک راستے پر ڈال دیا ہے۔ نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں بلکہ بھارت کے اندر بھی اقلیتیں خوف و ہراس میں زندگی گزار رہی ہیں۔ مودی حکومت کی جارحانہ پالیسی اور داخلی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ تاریخی حقائق، انسانی جانوں کے نقصان، اور عالمی سطح پر الزامات کے باوجود بھارت مسلسل پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔نئی دہلی میں دھماکے اور کشمیری مظالم مودی کی سیاست کے مظاہر ہیں، جو نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے عوام کے جذبات کو بھڑکانے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ مودی کی سیاسی حکمت عملی واضح ہے: داخلی سطح پر اقلیتوں کو خوفزدہ کرنا اور پاکستان دشمنی کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا۔ اس کی حکومت میں عوامی حقوق کی پامالی، فرقہ وارانہ فسادات، اور انسانی جانوں کا ضیاع روز کا معمول بن چکا ہے۔کشمیری عوام کی حالت زار، نئی دہلی دھماکے، اور گجرات کے مظالم یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارت میں انسانی حقوق اور سیکولر اقدار مکمل طور پر معدوم ہو چکی ہیں۔
مودی کی سیاست اور اقدامات نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اس دوران دہشت گردانہ حملے، جھوٹے الزامات اور اقلیتوں کے خلاف اقدامات پاکستان اور خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھارت کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کا بغور جائزہ لے اور انسانی حقوق اور امن کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔مودی کی سیاست کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ نفرت، فرقہ واریت اور جارحیت کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم، دہلی دھماکے اور داخلی دہشت گردانہ کارروائیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ بھارت میں سیکولرازم، انسانی حقوق اور جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ مودی کی سیاسی ترجیحات میں عوام کی حفاظت اور انسانی اقدار کا کوئی مقام نہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
نئی دہلی دھماکہ، بہار اسمبلی انتخابات کے حساس مرحلے، میڈیا تضادات اور ماضی میں ہونے والے مشکوک دھماکوں کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ مودی اور امت شاہ کے سیاسی حربے انسانی جانوں اور شفافیت کے مفاد کے خلاف ہیں۔ دھماکے کے عینی شاہد اور گاڑی کی تفصیلات کے تضاد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے عوام کو حقیقت سے دور رکھنے اور اپنے سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ پیغام دیتا ہے کہ بھارت میں انتخابات میں صرف ووٹ نہیں بلکہ عوام کے جذبات اور خوف کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔عوام، میڈیا اور انتخابی نگرانی کے اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حقائق کی جانچ کریں اور سیاسی بیانیہ اور اصل حقائق میں فرق واضح کریں، تاکہ انتخابات شفاف اور منصفانہ رہیں۔
نئی دہلی دھماکہ ایک یاد دہانی ہے کہ بھارت میں انتخابات کے دوران عوام کی حفاظت، شفاف معلومات اور حقیقی حقائق اکثر سیاسی فائدے کے لیے قربان کر دیے جاتے ہیں، اور یہ عمل مودی اور امت شاہ کی انتخابی حکمت عملی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔