بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی بے ضابطگیوں اور جعل سازی کے الزامات — اینٹی کرپشن اتھارٹی نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کردیں
بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال، مالی بے ضابطگیوں اور جعل سازی کے الزامات — اینٹی کرپشن اتھارٹی نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کردیں


سعودی عرب میں انسدادِ بدعنوانی کے ادارے نزاہہ (NAZAHA) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں میں 371 سرکاری ملازمین کے خلاف کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ تحقیقات ملک کی 6 اہم وزارتوں میں مالی بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت ستانی، جعل سازی اور حکومتی فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق شکایات پر کی جا رہی ہیں۔
نزاہہ کے مطابق ابتدائی ثبوتوں کی بنیاد پر متعدد ملازمین کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں جبکہ کچھ کے خلاف گرفتاری کی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کیسز میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں سرکاری خریداری میں بے ضابطگیاں، ٹھیکوں کی غلط تقسیم، جعل شدہ دستاویزات کا استعمال، اور مالی ریکارڈ میں رد و بدل شامل ہیں۔
انسدادِ بدعنوانی اتھارٹی نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کی واضح پالیسی ہے کہ “کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں” اور ہر سطح پر شفافیت یقینی بنانا ریاست کی اولین ترجیح ہے۔ اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔
سعودی عوام اور تجزیہ کاروں نے اس بڑے اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حکومتی اداروں میں اعتماد، شفافیت اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔