اسلامی معاشرے میں بے حیائی ناقابلِ قبول سوشل میڈیا کو فحاشی اورگندے مواد سے پاک کیا جائے
اسلامی اقدار کے منافی مواد پر عوام کا شدید ردِعمل، اکاؤنٹس بند اور سخت سزاؤں کا مطالبہ



سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فحاشی، عریانی اور XXX مواد کے بڑھتے ہوئے رجحان نے پاکستانی معاشرے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا ایپس پر غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز کی کھلم کھلا تشہیر نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ پاکستان کی سماجی اور اخلاقی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

شہریوں کا مؤقف ہے کہ اسلام نے بے حیائی اور بے غیرتی سے سختی سے منع کیا ہے، جبکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر ایسے مناظر عام ہو چکے ہیں جو سراسر اسلامی اور مشرقی اقدار کے منافی ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص صرف فیس بک یا دیگر پلیٹ فارمز کھول کر دیکھے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس حد تک فحاشی کو معمول بنا دیا گیا ہے۔

سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ جو عناصر سوشل میڈیا پر بے حیائی کو فروغ دے رہے ہیں، ان کے اکاؤنٹس فوری طور پر بند کیے جائیں اور سائبر کرائم قوانین کے تحت ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے نام پر اخلاقیات کی تباہی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔

شہریوں نے حکومت، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مؤثر اقدامات کریں تاکہ سوشل میڈیا کو فحاشی سے پاک کیا جا سکے اور آنے والی نسلوں کو اخلاقی زوال سے بچایا جا سکے۔