پی ٹی آئی کی مخالفت کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر

اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات کے باعث ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے،ملک کو جب زرمبادلہ کی شدید ضرورت تھی، اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کو رقوم نہ بھیجنے کی اپیلوں کے باوجود بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے وطن سے اپنی وابستگی ثابت کر دی۔ اوورسیز پاکستانیوں نے سیاسی مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ترسیلاتِ زر کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، جن میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ اضافہ قرضوں پر انحصار کا نتیجہ نہیں بلکہ ملکی پیداوار، برآمدات میں بہتری، غیر ملکی سرمایہ کاری، مالیاتی نظم و ضبط اور اوورسیز پاکستانیوں کے اعتماد کا مظہر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط زرمبادلہ ذخائر نہ صرف روپے کے استحکام، درآمدی صلاحیت اور مہنگائی پر قابو پانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ یہ ملکی معیشت، کاروباری اعتماد اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی مثبت پیغام ہیں۔ موجودہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان نے معاشی مشکلات کے باوجود اپنی مالی بنیاد کو مضبوط کیا ہے، جو مستقبل میں معاشی استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔