لیبیا: سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو گھر پر قتل کردیا گیا
چار نقاب پوش حملہ آوروں نے زنتان میں فائرنگ کرکے سیف الاسلام کو ہلاک کیا، تحقیقات کا آغاز

لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو منگل کے روز ان کے گھر پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے۔ قذافی خاندان کے قریبی ذرائع اور لیبیائی سرکاری خبر رساں ایجنسی لانا (LANA) نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چار نامعلوم نقاب پوش حملہ آور نے زنتان شہر میں ان کے رہائشی مقام پر حملہ کیا، سی سی ٹی وی کیمروں کو پہلے سے غیر فعال کر دیا گیا تھا اور پھر سیف الاسلام پر گولیاں چلائی گئیں، جس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔ ذمہ داروں کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

سیف الاسلام قذافی 53 سال کے تھے اور انہیں اپنے والد معمر قذافی کے دور میں طویل عرصے تک ان کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا رہا تھا۔ انہوں نے 2021 میں لیبیا کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم انتخاباتی عمل غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر ہو گیا تھا۔

لیبیا کی سیاسی صورت حال غیر مستحکم ہے اور سیف الاسلام کی ہلاکت نے ملک کی سیاسی کشمکش میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ حملے کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کی جا سکے۔