گوجرانوالہ: بھکاری مافیا کے ٹولے، شہری مسائل میں خطرناک اضافہ، انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات
گیس، بجلی، پانی، مہنگائی اور جرائم کے بعد گوجرانوالہ کے شہری پیشہ ور بھکاری مافیا کے رحم و کرم پر



گوجرانوالہ اس وقت شدید بنیادی مسائل کی زد میں ہے، جہاں ایک طرف گیس اور بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، پانی کی کمی، ٹوٹی سڑکیں، گندے نالے، کچروں کے ڈھیر، ٹریفک کا بے ہنگم نظام، ماحولیاتی آلودگی، اغواء، ڈکیتی اور مہنگائی جیسے مسائل شہریوں کی زندگی اجیرن بنائے ہوئے ہیں، وہیں دوسری جانب پیشہ ور بھکاری مافیا کے منظم ٹولے ایک نئے اور سنگین مسئلے کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔

شہریوں کے مطابق بھکاری مافیا کے یہ گروہ صبح سے رات گئے تک گلیوں، بازاروں، دفاتر، تعلیمی اداروں، بسوں، سڑکوں، پیٹرول پمپس اور حتیٰ کہ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے بہانے گھس کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ ان ٹولوں کی سرگرمیاں صرف بھیک تک محدود نہیں رہتیں بلکہ بسوں میں سوار مسافروں کی جیبیں اور بیگ کاٹنا، موبائل فون اور نقدی چرانا اور رش کے دوران خواتین کے زیورات اتار لینا بھی ان کے معمولات میں شامل ہے۔
بازاروں میں خریداری کرنے والے شہریوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جان چھڑانے کے لیے لوگ مجبوراً پیسے دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان ٹولوں میں مردوں کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں، جو سڑکوں اور گلیوں میں ڈیرے جما کر ہر راہگیر کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور کپڑے کھینچ کر بھیک مانگتے ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پیشہ ور بھکاری کسی نہ کسی سرپرستی کے تحت کام کر رہے ہیں، جنہیں باقاعدہ ہفتہ وار یا ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے، اسی لیے ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ شاہراہوں اور پیڈسٹرین بریجز پر جعلی معذوری کا ڈرامہ رچاتے ہیں، بچوں کے چہروں پر جلے ہوئے زخموں جیسے ماسک، ہاتھ پاؤں پر پلاسٹر اور آنکھوں پر کالا چشمہ لگا کر لوگوں کی ہمدردی سمیٹتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بھیک مانگنا اب محنت مزدوری سے زیادہ منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، جبکہ دیہاڑی دار، ملازمین اور محنت کش کم اجرت پر حلال روزی کما کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بھیک مانگنا اور پیشہ ور بھیک دینا دونوں معاشرتی اور دینی لحاظ سے ناپسندیدہ عمل ہیں۔
