گوجرانوالہ: نجی اسکولوں کی فیسوں، یونیفارم اور کتابوں میں ہوشربا اضافہ، غریب والدین بچوں کے مستقبل کے حوالے سے بے بس
پرائیویٹ تعلیمی ادارے سرکاری قوانین کو نظرانداز کرنے لگے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری نوٹس اور سخت کارروائی کا مطالبہ

گوجرانوالہ میں نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے من مانیوں کا سلسلہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث متوسط اور غریب طبقے کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ پرائیویٹ اسکول انتظامیہ نے نہ صرف سالانہ اور ماہانہ فیسوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے بلکہ اسکول یونیفارم، جوتے، کاپیاں، رجسٹرز اور دیگر تعلیمی سامان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔

والدین کا کہنا ہے کہ بیشتر نجی اسکول اپنی مرضی کی کتابیں اور کاپیاں مخصوص دکانوں سے خریدنے پر مجبور کرتے ہیں، جہاں قیمتیں عام مارکیٹ کے مقابلے میں دوگنی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ یونیفارم بھی مخصوص ٹیلرز یا اسٹورز سے خریدنے کی شرط عائد کی جاتی ہے، جس سے والدین پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو چلانے سے متعلق جو قوانین حکومت پنجاب نے وضع کیے ہیں، ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسکول انتظامیہ بغیر کسی نوٹس کے فیسوں میں اضافہ کر دیتی ہے اور والدین کی شکایات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
غریب اور محنت کش والدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی پہلے ہی زندگی مشکل بنا چکی ہے اور دوسری جانب بچوں کی تعلیم بھی ان کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ کئی والدین اپنے بچوں کو اسکول سے نکالنے یا کم معیار کے اداروں میں داخل کروانے پر مجبور ہو رہے ہیں، جو بچوں کے مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

شہری حلقوں، والدین اور سماجی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں، نجی اسکولوں کی فیسوں اور اضافی اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت کارروائی کریں اور تعلیمی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔
