نادرا ریکارڈ میں نرسیں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی غیر تربیت یافتہ — حساس نوعیت کے گائنی کیسز مقامی عملہ کی “مرضی” پر چلنے لگے

گوجرانوالہ کے علاقے کھیالی بائی پاس میں عطائی ڈاکٹرز نے جگہ جگہ غیر قانونی کلینکس کھول رکھے ہیں، جہاں حساس اور جان لیوا نوعیت کے طبی معاملات بغیر کسی مستند ڈگری، تربیت یا لائسنس کے انجام دیے جا رہے ہیں۔عوامی شکایات کے مطابق متعدد گائنی کلینکس ایسے ہیں جہاں اصلی گائناکالوجسٹ ڈاکٹرز کا نام صرف بورڈ پر درج ہے مگر کلینک دراصل غیر تربیت یافتہ نرسنگ سٹاف اور مقامی عملے کے ذریعے چل رہے ہیں۔

مقامی رہائشیوں نے روزنامہ بروقت نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ یہ افراد بغیر ڈگری، بغیر رجسٹریشن اور بغیر لائسنس کے دیسی اور حساس میڈیکل پروسیجرز سرانجام دیتے ہیں، جس کے باعث متعدد خواتین اور مریض سنگین طبی پیچیدگیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔
شہریوں کے مطابق یہ “عطائی مافیا” رات گئے تک کلینک چلا کر خطرناک انجیکشنز، خام ادویات اور غیر منظور شدہ ٹریٹمنٹ فراہم کرتا ہے، جن میں:
غیر محفوظ نارمل ڈلیوری
غلط ادویات اور انجیکشن
بغیر تربیت کے میڈیکل اسسٹنٹس
حساس کیسز میں تاخیر اور غلط فیصلہ سازی
ان کے مطابق یہ صورت حال شہریوں کی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہے، اور متعلقہ اداروں کی خاموشی نے ان عطائیوں کو مزید بے خوف کر دیا ہے۔

علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، ہیلتھ کیئر کمیشن پنجاب اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ:
عطائی ڈاکٹرز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے
بغیر لائسنس اور بغیر رجسٹریشن والے کلینکس کو فوری سیل کیا جائے
غیر تربیت یافتہ اسٹاف کی سرگرمیوں پر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے
گائنی جیسے حساس شعبوں میں عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے سخت قوانین لاگو کیے جائیں
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ سلسلہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔