مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث اہم عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس اہم گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر پورا کرتا ہے، جبکہ خلیجی ممالک سے آنے والا بیشتر تیل اسی راستے کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق تیل مہنگا ہونے کی صورت میں ملک میں ٹرانسپورٹ، بجلی اور صنعتی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کی شرح بڑھنے اور عام شہریوں پر مالی بوجھ میں اضافے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی بل میں اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو معاشی استحکام کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت حکمتِ عملی اختیار کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت کو ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث مارچ 2026 کے آغاز میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 30 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ صرف طلب و رسد کی بنیاد پر نہیں بلکہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے ’’جیوپولیٹیکل وار پریمیم‘‘ کا نتیجہ بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا حصہ تقریباً 30 فیصد ہے۔ اندازوں کے مطابق اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کے سالانہ تیل درآمدی بل میں تقریباً 1.8 سے 2 ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے