آج پاکستانی کی عوام ایک ایسے معاشی نظام کا بوجھ اٹھا رہی ہے جس میں سب سے زیادہ سزا ایماندار شہری کو مل رہی ہے۔ ایک عام پاکستانی دراصل صرف بجلی استعمال کرنے کا بل ادا نہیں کر رہا، بلکہ کئی پوشیدہ اخراجات بھی اس پر ڈال دیے گئے ہیں اور یہی وہ طریقہ ہے جس سے عوام کو مسلسل نچوڑا جا رہا ہے

پہلا ظلم:
شہری اپنی استعمال شدہ بجلی کی قیمت ادا کرتا ہے، جو پہلے ہی مہنگی ہے۔
دوسرا ظلم:
بجلی چوری کرنے والوں کا نقصان بھی ایماندار صارف سے وصول کیا جاتا ہے۔ جو چوری کرتا ہے وہ بچ جاتا ہے، جو بل دیتا ہے وہ سزا پاتا ہے۔
تیسرا ظلم:
مفت یونٹس اور غیر منصفانہ مراعات کا بوجھ بھی اسی طبقے پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی سے لڑ رہا ہے۔
چوتھا ظلم:
آئی پی پیز کو دیے جانے والے کیپیسٹی چارجز — چاہے بجلی لی جائے یا نہ لی جائے — عوام سے زبردستی وصول کیے جاتے ہیں۔
پانچواں ظلم:
غلط پالیسیوں، بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی سے پیدا ہونے والا خسارہ بھی عوام کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔
یوں پورا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہر ناکامی، ہر چوری، ہر غلط فیصلہ — سب کا بل صرف عام شہری ادا کرے۔یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں، یہ انصاف کا سوال ہے۔


جب تک عوام باشعور ہو کر اپنے حق کے لیے آواز بلند نہیں کرے گی، تب تک یہی چکر چلتا رہے گا۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم سوال کریں، سمجھیں، اور ایسے نمائندے منتخب کریں جو اہل، دیانتدار اور عوام کے سامنے جوابدہ ہوں۔
خاموشی ظلم کو مضبوط کرتی ہے۔
آواز اٹھانا تبدیلی کی پہلی شرط ہے۔