عمران ایک عام سا مزدور تھا۔ دن بھر اینٹیں اُٹھاتا، شام کو تھکا ہارا گھر لوٹتا۔ گھر میں بیوی عائشہ اور تین چھوٹے بچے تھے۔ کرائے کا کمرہ، ٹوٹی چھت، اور اکثر چولہا خالی۔
ایک رات بارش تیز ہو گئی۔ چھت سے پانی ٹپکنے لگا۔ بچے سہم گئے۔
عائشہ نے آہستہ کہا:
“عمران… آج آٹا بھی ختم ہو گیا ہے۔”
عمران خاموش رہا۔ جیب میں صرف دس روپے تھے۔
وہ باہر نکلا، بارش میں ہاتھ اُٹھا کر رو پڑا:
“یا اللہ! تو رزاق ہے، میں بے بس ہوں، میرے بچوں کو بھوکا نہ سلا۔”
اسی لمحے مسجد سے اذانِ فجر کی آواز آئی۔
وہ وہیں بیٹھ گیا۔
نماز کے بعد امام صاحب نے اعلان کیا:
“محلے کے ایک غریب مزدور کے لیے کسی نے خفیہ طور پر راشن اور کرائے کی رقم چھوڑ دی ہے۔ نام نہیں بتایا گیا۔”
عمران کا دل دھڑکنے لگا۔
جب وہ مسجد کے کمرے میں گیا تو وہاں:
✔ آٹے کی بوری
✔ تیل، دال، چاول
✔ اور لفافے میں پورے تین ماہ کا کرایہ
عمران زمین پر بیٹھ کر رونے لگا۔
“یا اللہ! میں نے تو تجھ سے مانگا تھا… تو نے بندوں کے دل ہلا دیے۔”

🌿 آزمائش ختم نہیں ہوئی — مگر یقین بڑھ گیا
چند ماہ بعد عمران کو شدید بخار ہوا۔ کام چھوٹ گیا۔ پھر فکر۔
عائشہ نے کہا:
“اللہ نے اُس دن مدد کی تھی، آج بھی کرے گا۔”
اسی دن ایک ٹھیکیدار آیا:
“تم وہی ہو نا جو ایمانداری سے کام کرتا ہے؟ میں نے تمہارے بارے میں سنا ہے۔ میری تعمیر میں مستقل کام کرو گے، تنخواہ دگنی ہو گی۔”
عمران سجدے میں گر پڑا۔

✨ حقیقت کیا ہے؟
ایسے واقعات پاکستان، بھارت، عرب ممالک میں ہزاروں بار ہو چکے ہیں۔
اخباروں میں بھی آئے۔
مساجد میں بھی سنائے جاتے ہیں۔
جب بندہ آخری حد پر اللہ کو پکارتا ہے
تو اللہ ایسے راستے سے رزق بھیجتا ہے جس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔
قرآن کہتا ہے:
“اور جو اللہ پر بھروسا کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے” (سورہ طلاق)

🤍 ایمان کو زندہ کرنے والی نصیحت
🔹 پریشانی اللہ کی ناراضی نہیں — آزمائش ہوتی ہے
🔹 دعا کمزور کا ہتھیار نہیں — مومن کی طاقت ہے
🔹 دیر اللہ کرتا ہے، اندھیر نہیں
اگر آج حالات سخت ہیں
تو سمجھ لیں اللہ آپ کو قریب بلا رہا ہے۔

🌙 آخری پیغام
جس رب نے:
موسیٰؑ کو سمندر سے گزارا
یوسفؑ کو قید سے نکالا
محمد ﷺ کو یتیمی سے امت کا سردار بنایا
وہ آپ کے مسئلے سے غافل نہیں ہو سکتا۔
بس ایک کام کریں:
ٹوٹ کر اللہ سے جُڑ جائیں۔