لاہور: جوہر ٹاؤن میں کمسن گھریلو ملازمہ زرناب نور پر بدترین تشدد، خاندان خوف میں مبتلا
غربت، بے بسی اور کمزور قانون کا ایک اور المناک چہرہ بے نقاب


لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 13 سالہ مسیحی بچی زرناب نور پر ہونے والے بہیمانہ تشدد نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ زرناب نور کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے، جو غربت کے باعث تعلیم حاصل نہ کر سکی اور کم عمری میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہو گئی۔
زرناب صرف 15 ہزار روپے ماہانہ پر ایک گھر میں کام کرتی رہی۔ مبینہ طور پر چند برتن ٹوٹنے کے معمولی واقعے پر اسے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بال زبردستی منڈوا دیے گئے، جو کہ نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اذیت کی بدترین مثال ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق زرناب کو کئی مہینوں تک والدین سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ تشدد کے انکشاف کے بعد زرناب اور اس کا پورا خاندان جان کے خوف کے باعث روپوش زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان میں کمزور، غریب اور اقلیتی بچوں پر ہونے والے مظالم کی ایک دردناک مثال ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بچوں کے تحفظ کے قوانین کس قدر کمزور ہیں اور ان پر عملدرآمد کتنا ناکافی ہے۔

📌 سماجی پیغام اور اپیل
زرناب نور صرف ایک بچی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ اگر آج اس بچی کو انصاف نہ ملا تو کل کوئی اور معصوم اس ظلم کا شکار ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، عدلیہ اور معاشرہ مل کر ایسے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائیں۔
زرناب نور اور اس کے خاندان کے لیے دعا کی اپیل کی جاتی ہے اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ متاثرہ بچی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔