استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک): بحیرۂ اسود میں ایک ترک آئل ٹینکر پر حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کو جزوی نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق حملے کے وقت ٹینکر معمول کے مطابق اپنے سفر پر تھا کہ اچانک دھماکے کی آواز سنی گئی، جس کے بعد جہاز کے عملے نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات کیے۔ واقعے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی، تاہم جہاز کے کچھ حصوں میں آگ لگنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ترک حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حملے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ حملہ کسی منظم کارروائی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
استنبول (مانیٹرنگ ڈیسک): بحیرۂ اسود میں آبنائے باسفورس سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ترکیہ کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ٹینکر اپنے مقررہ راستے پر سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے بعض حصے متاثر ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد جہاز سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
ذرائع کے مطابق عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی، جبکہ تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت قریبی سمندری حدود میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
ترک حکام نے واقعے کی مکمل چھان بین شروع کر دی ہے اور حملے کی نوعیت جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق باسفورس کے قریب اس طرح کا واقعہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔