انسانیت کی خدمت کرنے والے خاموش، جبکہ غیر اخلاقی طریقوں سے دولت کمانے والے نمایاں کیوں؟

پاکستان میں طب کا بدلتا چہرہ: خدمت یا کاروبار؟ پاکستان میں شعبۂ طب کو ہمیشہ ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا رہا ہے، مگر بدلتے وقت کے ساتھ اس شعبے میں بھی تلخ تضادات نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف وہ ڈاکٹر ہیں جو مریضوں سے ناجائز فیسیں، غیر ضروری ٹیسٹ اور کمیشن لے کر بڑے بڑے نجی اسپتالوں کے مالک بن چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ ڈاکٹر موجود ہیں جو انسانیت، ہمدردی اور دیانت داری کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں مگر مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنے گھروں کی دہلیز یا ایک چھوٹے سے کلینک تک محدود ہیں۔
طبی حلقوں اور عوامی آراء کے مطابق بعض ڈاکٹر مریض کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا کر علاج کو کاروبار میں بدل چکے ہیں۔ مہنگی ادویات، غیر ضروری آپریشنز اور رشوت پر مبنی ریفرلز نے متوسط اور غریب طبقے کے لیے علاج کو خواب بنا دیا ہے۔ ایسے عناصر نہ صرف طب جیسے مقدس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اس کے برعکس وہ ڈاکٹر جو رشوت سے کوسوں دور، رحم دلی اور پیشہ ورانہ ایمانداری کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، آج بھی خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ ڈاکٹر نہ میڈیا کی توجہ حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی سرمایہ دارانہ نظام میں آگے بڑھ پاتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں آج بھی انہی کا اصل مقام ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ طبی شعبے میں احتساب کے مؤثر نظام کو فعال کریں اور دیانت دار ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ طب ایک بار پھر خدمت کا استعارہ بن سکے، نہ کہ صرف منافع کا ذریعہ۔