یومِ حقِ خود ارادیت: صدر آصف علی زرداری کا عالمی برادری سے کشمیریوں کے حق کیلئے مؤثر کردار کا مطالبہ

جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد اور بامعنی مذاکرات سے مشروط ہے، صدر مملکت ، صدر مملکت آصف علی زرداری نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیری عوام سے کیا گیا حقِ خود ارادیت کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف بامعنی مذاکرات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے یومِ حقِ خود ارادیت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 جنوری کو پاکستان کے عوام، جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر یہ دن مناتے ہیں۔ یہ دن 1949 میں اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی یاد دلاتا ہے جس میں جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کی گئی اور کشمیری عوام کو آزاد و غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سخت پابندیاں، طویل نظر بندیاں اور جابرانہ قوانین نے خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ عام شہری تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں، خاندان بے گھر اور لوگ روزگار سے محروم ہو رہے ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر کنٹرول حاصل کرنے کی بھارتی کوششیں ایک نیا اور سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی خطرناک مثال ہے جس سے لاکھوں افراد کے روزگار، غذائی تحفظ اور علاقائی امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
صدر مملکت نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ محض تشویش کے اظہار پر اکتفا نہ کرے بلکہ کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے مؤثر اور عملی کردار ادا کرے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان، بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ان کی منصفانہ و پرامن جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔