معیشت اور پارلیمنٹ کو الگ نہیں کیا جا سکتا، قومی مسائل کا حل اجتماعی سوچ میں ہے: چیئرمین سینیٹ

سید یوسف رضا گیلانی کا ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی کتاب ’’معیشت اور پارلیمنٹ‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ کسی بھی کتاب یا خودنوشت کی تحریر میں صدق، حقیقت پسندی اور دیانت داری بنیادی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ مصنف پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تاریخ کے ساتھ ایمانداری سے پیش آئے۔ وہ رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کی معاشی موضوعات پر مبنی کتاب ’’معیشت اور پارلیمنٹ‘‘ کی کراچی میں منعقدہ تقریبِ رونمائی سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انہوں نے اپنی کتاب ’’چاہے یوسف سے صدا‘‘ کی تحریر کا آغاز قید کے دوران کیا تھا۔ ان کے مطابق سفرنامہ لکھنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے، مگر اپنی زندگی کو تاریخ کے تناظر میں قلم بند کرنا جرأت، تسلسل اور مستقل مزاجی کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے معیشت اور پارلیمنٹ کے باہمی تعلق کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ قومی مسائل کا حل اجتماعی سوچ، مکالمے اور مشترکہ تجربات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی امور پر مزید معیاری ادب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی تحریریں نوجوان نسل کو پاکستان کے سیاسی اور جمہوری نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی اور اسے ایک قابلِ قدر اور لازمی مطالعہ قرار دیا۔