اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک): عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت مختلف ممالک کی مقامی صرافہ مارکیٹوں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں کمی کے باعث خطے کے کئی ممالک میں بھی سونے کے نرخ نیچے آ گئے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق سونے کی قیمت میں کمی کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی، عالمی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کے لیے فروخت میں اضافہ ہے۔ اسی طرح عالمی سطح پر شرح سود میں ممکنہ تبدیلیوں کی توقعات نے بھی سونے کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے بعد خریداروں کی دلچسپی میں قدرے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا طویل مدت میں اب بھی محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم موجودہ عالمی معاشی صورتحال، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی مالیاتی پالیسیوں کے باعث سونے کی قیمتیں فی الحال غیر یقینی صورتحال کا شکار رہ سکتی ہیں۔