بسنت کے دن، غریب کی مجبوری — جرمانے سے بچنے کے لیے موٹر سائیکل کے آگے درخت کی ٹہنی
دو ہزار روپے کا چالان ایک محنت کش شہری کے لیے دو وقت کی روٹی سے بھی بڑا بوجھ بن گیا

محدود وسائل اور شدید مالی تنگی نے ایک شہری کو اس حد تک مجبور کر دیا کہ اس نے بسنت کے دوران ممکنہ جرمانے سے بچنے کے لیے اپنی موٹر سائیکل کے آگے درخت کی ایک ٹہنی باندھ لی۔ اس اقدام کا مقصد صرف یہ تھا کہ پتنگ کی ڈور یا بسنت کے حوالے سے نافذ سخت قوانین کے تحت لگنے والے جرمانے سے بچا جا سکے۔
متاثرہ شہری کے مطابق جب آمدن محدود ہو تو انسان کی ساری توجہ گھر کے راشن، بچوں کی بنیادی ضروریات اور روزمرہ کے اخراجات پر مرکوز رہتی ہے۔ ایسے حالات میں دو ہزار روپے کا جرمانہ ادا کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل ہے۔


بسنت جیسے تہوار جہاں ایک طبقے کے لیے خوشی، رنگ اور تفریح کی علامت ہوتے ہیں، وہیں غریب طبقے کے لیے یہ دن خوف، بے یقینی اور اضافی پریشانیوں کا باعث بن جاتے ہیں۔
جشن کی چکاچوند کے پیچھے چھپی یہ خاموش کہانیاں معاشرے کی تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں۔