ماسکو (مانیٹرنگ ڈیسک): روس کے صدر Vladimir Putin نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کے نتائج کا درست اندازہ لگانا آسان نہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ باقاعدہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں، جو عالمی سطح پر اسی نوعیت کے بحران کو جنم دے سکتے ہیں جیسا کہ COVID-19 کے دوران دیکھا گیا تھا۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری تناؤ نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی بڑے تصادم اور اس کے تباہ کن نتائج سے بچا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔