راولپنڈی: ڈھوک حسو سے گمشدہ بچی کی لاش برآمد، درندگی نے انسانیت کو شرما دیا
واقعہ معاشرتی غفلت، منشیات کے پھیلاؤ اور اجتماعی خاموشی کا بھیانک نتیجہ قرار


راولپنڈی کے علاقے ڈھوک حسو میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، جہاں ایک گمشدہ معصوم بچی کی لاش برآمد ہوئی۔ یہ سانحہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک گہرا زخم بھی ہے۔

یہ حقیقت ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے کہ ہمارے اردگرد کچھ لوگ بظاہر انسان دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اندر درندگی اور شیطانی سوچ چھپی ہوتی ہے۔ کسی کے چہرے پر یہ نہیں لکھا ہوتا کہ وہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، اسی لیے والدین اور معاشرے کو ہر وقت چوکنا رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر آج اس ظلم پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہی المیہ کسی اور معصوم کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔ ایسے درندہ صفت عناصر کو قانون کے مطابق عبرتناک اور سخت ترین سزا دی جانی چاہیے تاکہ معاشرے میں خوفِ قانون قائم ہو اور آئندہ کوئی معصوم اس وحشت کا شکار نہ بنے۔
عوام نے حکومتِ وقت، بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

📌 معاشرتی نصیحت اور پیغام
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم کسی واقعے پر چند دن شور مچاتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، مگر پھر سب کچھ بھلا کر اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ یہی وقتی ردِعمل ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے، جس کی وجہ سے ایسے واقعات بار بار جنم لیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق معاشرتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ منشیات، خصوصاً “آئس” جیسی خطرناک نشہ آور اشیا ہیں، جنہوں نے بے شمار گھروں کا سکون تباہ کر دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محلے کی سطح پر عوام متحد ہو کر منشیات فروشوں اور نشئی افراد کے خلاف آواز بلند کریں، متعلقہ اداروں کو بروقت اطلاع دیں اور اپنے بچوں کو اس زہر سے محفوظ رکھیں۔
خاموشی جرم کو جنم دیتی ہے، جبکہ آواز انصاف کو۔ اگر ہم نے آج اجتماعی طور پر ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ نہ کیا تو کل کسی اور معصوم کی باری ہو سکتی ہے۔