وہاڑی سے تعلق رکھنے والا نوجوان وکیل ذیشان شبیر ڈھڈی مبینہ طورپر پولیس کے ہاتھوں قتل ہوگیا جس پر حکام نے دعویٰ کیا کہ وہ مطلوب تھے ، ان کیخلاف منشیات کے مقدمات تھے۔
پنجاب بار کونسل کی طرف سے جاری ہونیوالی مذمتی قرار داد میں بتایاگیا ہے کہ پولیس تھانہ ماچھویال کی جانب سے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا اور پولیس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہاگیا حقائق چھپانے ملوث اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیاجائے اور واقعہ کی شفاف انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ، ذمہ داران کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور اس سلسلہ میں یکم دسمبر کو پنجاب بھرم یں ہڑتال کا بھی اعلان کیاگیا۔

اب میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ “وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ پر 15 کلو ہیروئن کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے والی ریاست کے محکمے کہہ رہے ہیں کہ وہاڑی کے علاقے میں 5مربع اراضی اور علاقے کے معتبر سیاسی خاندان کا نوجوان وکیل ذیشان شبیر ڈھڈی منشیات فروش تھا جسے پولیس مقابلے میں شہید کیا گیا، اگر وہاڑی کا یہ شہید منشیات فروش تھا تو پھر رانا ثناءاللہ پر بھی منشیات فروشی کا مقدمہ 100 فیصد درست تھا” ۔انہوں نے مزید لکھا کہ اہلخانہ کے اس مئوقف کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ مخالفین سے پیسہ لیکر پولیس نے انکا دوسرا بیٹا قتل کیا ہے۔ صوبے بھر میں ایسی ہی شکایات آ رہی ہیں۔ شہید وکیل ذیشان ڈھڈی کا کریمنل ریکارڈ 10 منٹوں میں تیار کرنا پولیس کا معمول کا حربہ ہے، اس لئے پنجاب بھر کی وکلاء برادری اس کیس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔