مدورو کی گرفتاری کا آپریشن امریکی فوجی طاقت کا حیران کن مظاہرہ تھا، صدر ٹرمپ

امریکہ وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا، تیل کمپنیوں کے لیے نئے مواقع، بڑے حملے کی بھی تیاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی گرفتاری کے لیے کیے گئے امریکی حملے کو ایک ’’شاندار کارروائی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی کھل کر تعریف کی ہے۔ یہ حملہ کاراکاس کے قلب میں واقع ایک انتہائی محفوظ فوجی قلعے میں کیا گیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اپنی نوعیت کا نایاب اور غیر معمولی آپریشن تھا۔
اس کارروائی کا بنیادی مقصد ’’آمر مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا‘‘ تھا۔ انہوں نے اس آپریشن کو امریکی تاریخ میں فوجی طاقت، مہارت اور منصوبہ بندی کا حیران کن، مؤثر اور طاقتور مظاہرہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی کوئی بھی قوم وہ حاصل نہیں کر سکتی تھی جو امریکہ نے انتہائی کم وقت میں حاصل کیا، اور وینزویلا کی تمام فوجی صلاحیتوں کو بے بس کر دیا گیا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں امریکہ کا ایک بھی فوجی ہلاک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا فوجی ساز و سامان ضائع ہوا، حالانکہ اس آپریشن میں بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹرز، طیارے اور فوجی دستے شامل تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا میں مزید بڑے حملے کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہے، تاہم پہلے آپریشن کی غیر معمولی کامیابی کے باعث ممکن ہے کہ دوسری لہر کی ضرورت پیش نہ آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اقتدار کی ’’محفوظ، مناسب اور منصفانہ منتقلی‘‘ نہیں ہو جاتی، امریکہ وینزویلا کا انتظام خود سنبھالے گا۔

امریکی عدالتوں کے پاس مدورو کے جرائم کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، جو نہایت ہولناک اور ہوش ربا ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مادورو کے دورِ اقتدار میں امریکہ کے خلاف تشدد، دہشت گردی اور تخریب کاری کی مہم چلائی گئی، جس سے پورے خطے کا استحکام خطرے میں پڑا۔
امریکی مداخلت کے بعد وینزویلا میں امریکی تیل کمپنیوں کے لیے نئے دروازے کھلیں گے، جو اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے تباہ حال انفراسٹرکچر کو بحال کریں گی اور ملک کی معیشت کو سہارا دیں گی۔
وینزویلا میں امریکی آپریشن ہر اس شخص کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو امریکی خودمختاری یا جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرے گا، اور کہا کہ امریکی بیڑہ الرٹ ہے جبکہ تمام فوجی آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔