ٹرمپ انتظامیہ کا 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزہ معطل کرنے کا فیصلہ امریکی عدالت میں چیلنج
شہری حقوق تنظیموں کا مؤقف: پالیسی امریکی امیگریشن قانون کی بنیادوں کے خلاف ہے

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی امریکا کے امیگریشن قانون کی دہائیوں پر محیط مستحکم بنیاد کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور اس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ویزہ پالیسی کو فوری طور پر روکا جائے اور اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔
یاد رہے کہ امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہے۔ اس فیصلے سے متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، البانیہ، الجزائر، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلادیش، بیلاروس، بھوٹان، بوسنیا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد متاثرہ خاندانوں اور تارکین وطن میں بے چینی پائی جا رہی ہے جبکہ قانونی ماہرین اسے ایک بڑا آئینی مقدمہ قرار دے رہے ہیں۔