اسکول سے یونیورسٹی تک فیسوں کی دوڑ، کیا پاکستان میں تعلیم صرف امیروں کا حق بن چکی ہے؟

سرکاری تعلیمی ادارے زوال پذیر، نجی ادارے منافع کی دوڑ میں سبقت لے گئے
پاکستان میں تعلیم، جو کبھی علم، شعور اور کردار سازی کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی، آج رفتہ رفتہ ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک، معیارِ تعلیم سے زیادہ فیسوں کی وصولی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ بچوں کو کچھ آتا ہے یا نہیں، اس سے غرض نہیں، بس ماہانہ فیس، سالانہ چارجز اور اضافی ادائیگیاں وقت پر وصول ہونی چاہئیں۔

نجی تعلیمی اداروں نے تعلیم کو مکمل کاروباری ماڈل بنا لیا ہے۔ داخلہ فیس، ماہانہ فیس، امتحانی فیس، یونیفارم، کتابیں، کاپیاں، بیگز، حتیٰ کہ پنسل تک ادارے خود مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ مارکیٹ میں 10 روپے کی پنسل اسکول میں 20 روپے کی، 30 روپے کی کاپی 50 روپے میں دی جاتی ہے۔ اسی طرح اسکول اور کالج کی کینٹین میں کھانے پینے کی اشیاء بازار کے مقابلے میں دوگنی قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں، جس سے لاکھوں روپے کمائے جا رہے ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے، جہاں مفت یا انتہائی کم خرچ میں تعلیم، کتابیں اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، عوام کی عدم توجہ اور حکومتی غفلت کا شکار ہیں۔ گورنمنٹ اسکولز بند ہوتے جا رہے ہیں، عمارتیں خستہ حال ہیں، اساتذہ کی کمی ہے، مگر اس کے باوجود ان اداروں کو جدید بنانے اور آگے بڑھانے کے بجائے نجی تعلیمی اداروں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔

معاشرتی المیہ یہ بھی ہے کہ ہم خود سرکاری اسکول میں مفت تعلیم کو کمتر اور توہین سمجھنے لگے ہیں، صرف اس لیے کہ وہاں نجی اداروں جیسا ماحول، ایئرکنڈیشنڈ کلاس رومز اور بھاری فیسوں والا رعب نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی سرکاری اداروں سے ملک کے بڑے افسران، سائنسدان، ڈاکٹر اور رہنما پیدا ہوئے۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر سرکاری تعلیمی اداروں کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا اور نجی اداروں کی من مانیوں پر قابو نہ پایا تو تعلیم مکمل طور پر امیروں کی میراث بن جائے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو کاروبار نہیں بلکہ قومی ذمہ داری سمجھا جائے، اور معیار، اخلاقیات اور مساوات کو ترجیح دی جائے۔
سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان میں یہ سب ہو کیا رہا ہے؟ کیا کوئی توجہ دینے والا نہیں؟ یا ہم سب اس خاموش تباہی کے خود ذمہ دار ہیں؟