کابل: خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث افغانستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کے ممکنہ جوابی حملوں کے خدشے کے پیش نظر افغان طالبان کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں نے دارالحکومت کابل سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات کی جانب منتقلی شروع کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض طالبان کمانڈرز اور سرکاری اہلکاروں کو ہنگامی بنیادوں پر حساس تنصیبات اور سرکاری عمارتوں سے نکال کر خفیہ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ رات کے اوقات میں کئی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئیں جن کے ذریعے اہم شخصیات کو دارالحکومت سے باہر منتقل کیا گیا۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد افغانستان میں موجود طالبان قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو سرحدی علاقوں میں عسکری کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔ اسی خدشے کے باعث طالبان قیادت نے ہنگامی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل اور اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ بعض اہم سرکاری دفاتر میں غیر معمولی نقل و حرکت بھی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔