پتنگ بازی کی واپسی: شہریوں کی جانیں پھر خطرے میں
بیس سالہ پابندیوں کے بعد خطرناک ڈور، موٹر سائیکل سواروں کے لیے پھر جان لیوا بن گئی




بیس سال پہلے ریاست نے ایک تلخ حقیقت کو تسلیم کیا تھا — کہ پتنگ بازی محض ایک ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک خونی کھیل بن چکی ہے۔ خطرناک ڈور نے درجنوں قیمتی جانیں لیں، ماؤں سے بیٹے چھینے، بچوں کو یتیم کیا اور بے شمار راہگیروں کو سڑکوں پر لہولہان چھوڑا۔ انہی سانحات کے بعد سخت پابندیاں لگائی گئیں تاکہ شہریوں کی جان محفوظ رہ سکے۔
مگر آج پھر وہی خوفناک مناظر واپس آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار اپنی حفاظت کے لیے بائیکس پر لوہے کی سلاخیں اور پائپ باندھنے پر مجبور ہیں۔ یہ منظر کسی تہوار کا نہیں بلکہ خوف اور غیر یقینی صورتحال کا عکاس ہے۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کی غیر اعلانیہ واپسی نے ایک بار پھر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈز میں ڈور سے زخمی ہونے والوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی روایت یا شوق کی قیمت انسانی جان نہیں ہو سکتی۔ ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے، اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی مزید سانحات کو جنم دے سکتی ہے۔
ہر حادثہ صرف ایک خبر نہیں — بلکہ نظام کے لیے ایک انتباہ ہے کہ عوام کی حفاظت پر سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔
