شہریوں کا مؤقف: 400 روپے والا ہیلمٹ 4000 میں فروخت، حکومت قیمتوں پر بھی کنٹرول کرے
شہریوں کا مؤقف: 400 روپے والا ہیلمٹ 4000 میں فروخت، حکومت قیمتوں پر بھی کنٹرول کرے

پنجاب بھر میں ان دنوں ٹریفک قوانین پر سخت ترین کریک ڈاؤن جاری ہے، جس کے باعث عام شہریوں کے لیے گھر سے نکلنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور بائیک دستاویزات کی سخت چیکنگ جاری ہے، اور ناکوں پر ہزاروں شہریوں کو جرمانے کیے جا رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عمل داری ضروری ہے، مگر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 400 روپے والا ہیلمٹ 4,000 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔
مہنگائی کے ستائے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ حکومت نے جب ہر شے کی قیمتیں کنٹرول کر رکھی ہیں تو ہیلمٹ کی قیمتیں بے لگام کیوں چھوڑ دی گئی ہیں؟

عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ جہاں ناکے لگائے جاتے ہیں، وہاں حکومت کو کم از کم ایک کیبن بنا کر شہریوں کو موقع پر سہولت دینی چاہیے، جن میں:
ہیلمٹ سرکاری نرخ پر فراہم کیے جائیں
لائسنس کا موقع پر اجرا یا درخواست کا نظام قائم ہو
بائیک رجسٹریشن / دستاویزات چیکنگ کا فوری طریقہ بنایا جائے
شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ غریب آدمی کا ہیلمٹ نہ ہونے پر صرف جرمانہ کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کسی کے پاس ہیلمٹ نہیں تو پہلے اسے ہیلمٹ دیا جائے۔


اگر بائیک کے کاغذات موجود نہیں تو شہری کو مناسب وقت دیا جائے کہ وہ دستاویزات فراہم کرے۔ بار بار فراہمی میں ناکامی یا ملکیت ثابت نہ ہونے کی صورت میں پھر قانونی کارروائی کی جائے۔
عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک اصلاحات کے ساتھ ساتھ ہیلمٹ مافیا کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے، تاکہ منافع خور عناصر شہریوں کا استحصال نہ کر سکیں۔
Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks! https://www.binance.info/bn/register?ref=WTOZ531Y