لاہور کے ڈاکٹر اور خاتون پولیس افسر میں تنازع — زبردستی پیسے دلوانے کے الزامات

ڈاکٹر کا موقف: پولیس نے مریضہ کو لاکھوں روپے دلوانے پر مجبور کیا — ایس پی شہر بانو نقوی: معاملہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی، ہراسانی و تشدد کے دعوے بے بنیاد

لاہور کے ڈاکٹر علی زین العابدین نے ایس پی شہر بانو نقوی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انہیں زبردستی مریضہ کو لاکھوں روپے ادا کرنے پر مجبور کیا، جبکہ خاتون پولیس افسر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق اپریل میں مریضہ کی آنکھ کی لیزر سرجری کی گئی تھی جو اُن کے بقول کامیاب تھی، تاہم بعدازاں مریضہ نے پہلے کلینک پر آکر اور پھر پولیس کی موجودگی میں رقم وصول کی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ پولیس بغیر میڈیکل رپورٹ یا بورڈ کی رائے کے کسی سرجری کی درستگی کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ دوسری جانب ایس پی شہر بانو نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر کو صرف مریضہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، نہ کوئی بدسلوکی ہوئی اور نہ ہی دباؤ ڈالا گیا۔ پولیس اور ڈاکٹر کا مؤقف سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید تنازع کی صورت اختیار کرگیا ہے جبکہ تفتیش اور موقف کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article.