نواب سلیم اللہ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام تقریب، بنگلہ دیش میں قائداعظم اور مسلمان قومی شناخت کی بحالی پر زور

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 149ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب نواب سلیم اللہ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام نیشنل پریس کلب، مولانا اکرم خان ہال میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کی صدارت نواب سلیم اللہ اکیڈمی کے صدر محمد عبدالجبار نے کی جبکہ سٹیزنز کونسل کے کنوینر محمد شمس الدین مہمانِ خصوصی تھے۔
مہمانِ خصوصی محمد شمس الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہم 1947 میں دنیا کی پہلی مسلمان ریاست کے طور پر آزاد ہوئے، اور آج کا بنگلہ دیش قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ اس خطے میں نہ آتے تو یہاں صنعتیں اور فیکٹریاں قائم نہ ہوتیں۔”

انہوں نے کہا کہ آپریشن سرچ لائٹ سے قبل بھارت نے بنگلہ دیش میں رہنے والی اردو بولنے والی آبادی کو نشانہ بنایا، اس خیال کے تحت کہ انہیں ختم کر کے ملک پر قبضہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اردو بولنے والے مسلمانوں کے آباؤ اجداد کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے بنگلہ دیش میں صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے کہا کہ اب دشمنی کا دور ختم ہو چکا ہے اور اسی لیے قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش کھلے دل سے منایا جا رہا ہے۔ مقررین کے مطابق 2005 کے بعد سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ تقریبات ممکن نہ تھیں، مگر گزشتہ سال سے قائداعظم اور علامہ اقبال کی پیدائش و برسی کی تقریبات کا باقاعدہ دوبارہ آغاز ہو چکا ہے۔
نواب سلیم اللہ اکیڈمی کے نمائندوں نے کہا کہ اکیڈمی قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے نظریات کی پیروی کرتی ہے، کیونکہ ان دونوں عظیم شخصیات نے مسلمان قومی شناخت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ قائداعظم کا یومِ پیدائش منانا نہ صرف بنگلہ دیش کے وجود بلکہ عوام کی بقاء اور مسلمان شناخت کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

Muhammad Ali Jinnah 149th birth anniversary
انہوں نے مزید کہا کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اب ان سرگرمیوں کو آزادی کے ساتھ منانے کی اجازت مل رہی ہے۔ بھارتی ثقافتی تسلط کو مسلمان شناخت کے اظہار میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا، جو اب کمزور پڑ رہا ہے۔تقریب میں شریک دیگر مقررین نے قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کے مختلف پہلوؤں، ان کی جدوجہدِ آزادی، قیادت اور مسلمانوں کے لیے خدمات پر روشنی ڈالی اور انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔