کھیالی بائی پاس گوجرانوالہ میں مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیاں، شہریوں کا کم عمر بچوں کے مستقبل پر شدید خدشات کا اظہار



گوجرانوالہ: کھیالی بائی پاس کے علاقے میں دن دہاڑے مبینہ ہراسانی، شہریوں نے کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرِعام مبینہ غیر اخلاقی حرکات سے معاشرتی اقدار اور بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے، انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات،
گوجرانوالہ کے علاقے کھیالی بائی پاس کے مکینوں نے مبینہ طور پر دن کے اوقات میں ہونے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق بعض مقامات پر سرِعام آوازیں لگانے اور مبینہ ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کم عمر بچوں کے اخلاقی و ذہنی تحفظ پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وسائل گروی رکھ کر قرض نہیں
وسائل استعمال کر کے آمدن!
معیشت کا حل مزید قرض نہیں، پیداوار ہے۔
آمدن بڑھاؤ، اخراجات کم کرو۔
یہی خودمختار اور مضبوط پاکستان کا راستہ ہے۔
نسیم صادق
چیئرمین، عام لوگ پارٹی پاکستان
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ کسی ایک طبقے سے منسوب کرنے کے بجائے قانون کی عملداری اور نابالغ بچوں کے تحفظ کا ہے۔ ان کے مطابق بعض کم عمر بچے مالی یا دیگر وجوہات کے باعث غلط صحبت کا شکار ہو رہے ہیں، جو ان کے مستقبل، تعلیم اور صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ اداروں سے بارہا رابطے کے باوجود عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے، جبکہ شکایات پر اکثر درخواست دینے کا کہہ کر معاملہ ٹال دیا جاتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے میں گشت بڑھائیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں اور نابالغ بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے خاموشی اختیار کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
