کیا خالص دودھ اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو رہا ہے؟

اور اگر مل رہا ہے تو کس قیمت پر؟
سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق دودھ 180 روپے فی کلو اور دہی 210 روپے فی کلو ہونی چاہیے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شہر بھر میں دودھ 210 روپے اور دہی 240 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری نرخنامہ موجود ہے تو پھر اس پر عملدرآمد کیوں نہیں؟

کیا سرکاری ریٹ لسٹ صرف فائلوں اور دیواروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟
کیا دکاندار کھلے عام من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں؟
اور کیا ان سب کا خمیازہ ہمیشہ کی طرح غریب اور متوسط طبقہ ہی بھگت رہا ہے؟

دودھ اور دہی روزمرہ استعمال کی بنیادی غذائیں ہیں، مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ناقص نگرانی کے باعث یہ اشیاء بھی آہستہ آہستہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک طرف ملاوٹ کا مسئلہ ہے اور دوسری طرف بے قابو قیمتیں—ایسے میں شہری کہاں جائیں؟

👉 آپ کو دودھ اور دہی کس قیمت پر مل رہی ہے؟
👉 کیا آپ کو خالص دودھ دستیاب ہے یا ملاوٹ کا سامنا ہے؟
👉 کیا انتظامیہ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے؟
اپنی رائے اور تجربہ ضرور شیئر کریں، کیونکہ آواز اٹھانا ہی تبدیلی کی پہلی سیڑھی ہے۔