گوجرانوالہ میں پیشہ ور گداگری میں اضافہ، عوام شدید پریشان
بازار، چوراہے اور تفریحی مقامات بھکاریوں کے گھیراؤ میں، سوال—ذمہ دار کون؟



گوجرانوالہ میں گداگری کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہر کے مصروف بازاروں، چوکوں، ٹریفک سگنلز، پارکوں اور حتیٰ کہ ہوٹلوں و ریسٹورنٹس کے باہر عوام کو بار بار بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کہیں بیٹھ جائیں تو بھکاری گھیر لیتے ہیں اور بعض اوقات انکار پر بدتمیزی یا ضد کا رویہ بھی اختیار کیا جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق شہر میں موجود بھکاریوں کی بڑی تعداد پیشہ ور دکھائی دیتی ہے جو منظم انداز میں مختلف مقامات پر سرگرم نظر آتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک ہی چہرے روزانہ ایک ہی مقام پر نظر آتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض وقتی مجبوری نہیں بلکہ ایک باقاعدہ پیشہ بن چکا ہے۔


شہری یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ آخر ان عناصر کو روکنے والا کوئی کیوں نہیں؟ اگر گداگری کے خلاف قوانین موجود ہیں تو ان پر عملدرآمد کیوں نظر نہیں آتا؟ عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث نہ صرف شہری ذہنی کوفت کا شکار ہیں بلکہ شہر کا مجموعی تاثر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ غربت اور بے روزگاری ایک حقیقت ہے، تاہم پیشہ ور گداگری اور منظم نیٹ ورکس حقیقی مستحق افراد کا حق بھی چھین رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ گداگری کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ ساتھ مستحق افراد کے لیے بحالی اور فلاحی نظام کو بھی فعال بنائے۔

شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، منظم گروپس کی نشاندہی کی جائے اور عوام کو اس مسئلے سے نجات دلائی جائے، تاکہ گوجرانوالہ ایک باوقار اور محفوظ شہری ماحول کی جانب واپس لوٹ سکے۔