گوجرانوالہ: چوک بڑھتے جا رہے ہیں، ٹریفک کم کیوں نہیں ہو رہی؟
گوجرانوالہ شہر میں حالیہ برسوں کے دوران جگہ جگہ نئے چوک تعمیر کیے گئے، مقصد ٹریفک کو رواں رکھنا اور شہریوں کو سہولت دینا بتایا گیا۔ مگر زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔ شہر کے اہم علاقوں—سیٹلائٹ ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، پیپلز کالونی، نوشہرہ روڈ اور جی ٹی روڈ کے اطراف—چوک تو موجود ہیں، مگر ٹریفک کی بدنظمی جوں کی توں برقرار ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چوک بنانے سے ٹریفک کنٹرول نہیں ہوتی، بلکہ باقاعدہ نظام سے ہوتی ہے۔ اگر ان مقامات پر جدید ٹریفک سگنلز نصب کر دیے جائیں، لین مارکنگ کی جائے اور ٹریفک پولیس کی موجودگی یقینی بنائی جائے تو صورتحال میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔

چوک یا سگنل؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق چوک اُس وقت مؤثر ہوتے ہیں جب:
ٹریفک کا بہاؤ کم ہو
ڈرائیوروں میں ٹریفک شعور موجود ہو
اور چوک پر مستقل نگرانی ہو
گوجرانوالہ جیسے گنجان اور تیز رفتار شہر میں سگنلائزڈ جنکشن زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہاں بغیر سگنل کے چوک بنانے کا مطلب یہ ہے کہ:
ہر ڈرائیور خود کو درست سمجھتا ہے
موٹر سائیکلیں ہر طرف سے گھس آتی ہیں
رکشے، ویگنیں اور لوڈر سڑک پر ہی سواریاں اُتارتے ہیں
نتیجہ؟ ہارنوں کا شور، اعصابی تناؤ اور گھنٹوں کا ضیاع۔


نشئی بابا، پوسٹر اور بدذوقی
شہریوں کی ایک اور شکایت یہ بھی ہے کہ ان چوکوں کو سٹی بیوٹیفکیشن کے بجائے پوسٹر وار کی نذر کر دیا گیا ہے۔ کہیں جعلی عامل، کہیں نشئی بنگالی بابا، تو کہیں سیاسی نعروں کے پوسٹر—چوک کا اصل مقصد کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے۔ایک شہری کا کہنا تھا:“چوک ٹریفک کے لیے بنائے جاتے ہیں، اشتہارات کے لیے نہیں۔ اگر یہی کرنا تھا تو سادہ دیوار بنا دیتے۔”

شہری کیا چاہتے ہیں؟
ہر بڑے چوک پر ٹریفک سگنلز
لین ڈسپلن اور روڈ مارکنگ
تجاوزات کے خلاف عملی کارروائی
پوسٹر مافیا کے خلاف سخت ایکشن
منصوبہ بندی سے پہلے ٹریفک اسٹڈی
اختتامیہ
سوال یہ نہیں کہ چوک کیوں بنائے گئے، سوال یہ ہے کہ کیا بغیر منصوبہ بندی کے بنائے گئے چوک واقعی مسئلے کا حل ہیں؟
گوجرانوالہ کو اب خوبصورت ڈھانچوں نہیں، فعال نظام کی ضرورت ہے۔ ورنہ چوک بڑھتے رہیں گے، رش بھی… اور شہری صرف سوال ہی کرتے رہ جائیں گے۔