پاکستان میں شہریوں کی اوسط آمدنی میں 97 فیصد اضافہ، ماہانہ اوسط آمدنی 82 ہزار روپے

انٹرنیٹ رسائی 70 فیصد، مکمل حفاظتی ٹیکہ جات 73 فیصد، قومی خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی

وفاقی ادارہ شماریات کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شہریوں کی اوسط آمدنی میں گزشتہ پانچ سال میں 97 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ماہانہ اوسط آمدنی 82 ہزار روپے ہوگئی ہے۔ سروے کے مطابق گھریلو اخراجات 113 فیصد بڑھ گئے ہیں، جن میں سب سے زیادہ خرچ فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک میں ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح 84 فیصد سے کم ہو کر 82 فیصد ہوگئی، جبکہ کرایہ داروں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 10.5 فیصد ہوگئی ہے۔

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ کلین فیول کا استعمال 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد، نیچرل گیس، ایل پی جی، بایو گیس اور سولر انرجی کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ہینڈ پمپ سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 24 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد، نل کے پانی کے استعمال کرنے والوں کی شرح 18 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد اور فلٹر شدہ پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوگئی ہے۔ ملک میں 7 فیصد آبادی ابھی بھی بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال میں ٹک ٹاک سب سے آگے ہے، 88 فیصد افراد ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں، جبکہ یوٹیوب پر وی لاگ کرنے والے 86 فیصد ہیں۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہوگیا ہے۔ مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد، قومی خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد، اور اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد ہوگئی ہے۔