عطاء اللہ تارڑ کا مؤقف: سزاؤں کا قانونی تسلسل، 14 سال بعد 17 سال کی سزا نافذ ہوگی

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلوں کے مطابق سزائیں مرحلہ وار نافذ ہوتی ہیں،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مجرم کو دی گئی سزائیں قانونی طریقہ کار کے تحت مرحلہ وار نافذ ہوتی ہیں، جس کے مطابق 14 سال کی سزا مکمل ہونے کے بعد 17 سال کی دوسری سزا کا آغاز ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے فیصلے واضح اور قانون کے عین مطابق ہیں، جن پر مکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ سزاؤں کے تسلسل سے متعلق کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پاکستانی قانون کے تحت اگر کسی ملزم کو مختلف مقدمات میں الگ الگ سزائیں سنائی جائیں تو وہ سزائیں بیک وقت نہیں بلکہ ترتیب سے پوری کی جاتی ہیں، الا یہ کہ عدالت اس کے برعکس حکم دے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور عدالتی فیصلوں پر کسی قسم کا دباؤ یا مداخلت نہیں کی جا رہی۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے بعض حلقے غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حقیقت یہی ہے کہ ہر سزا اپنی مقررہ مدت کے مطابق نافذ ہوگی۔
Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks!