اے آئی مصنوعی ذہانت انسان کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے

غلط ہاتھوں میں پہنچنے والی اے آئی ٹیکنالوجی عزتیں پامال کرنے، بلیک میلنگ اور ذہنی قتل کا سبب بن رہی ہے



دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو ترقی، روزگار اور جدید سہولیات کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے، مگر اسی ٹیکنالوجی کے سیاہ پہلو اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف اے آئی انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہے، وہیں دوسری جانب یہ ٹیکنالوجی جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں ایک خطرناک ہتھیار بنتی جا رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں ایسے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور تصاویر (Deepfake) بنا کر خواتین کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کئی نوجوان لڑکے اپنی ذاتی خواہشات پوری نہ ہونے پر لڑکیوں کی جعلی ویڈیوز بنا کر پہلے انہیں دباؤ میں لاتے ہیں اور پھر انکار کی صورت میں یہ مواد سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا جاتا ہے۔

یہ عمل نہ صرف کردار کشی اور ذہنی اذیت کا سبب بنتا ہے بلکہ بعض افسوسناک واقعات میں متاثرہ لڑکیاں معاشرتی دباؤ اور بدنامی سے تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ تک کر لیتی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس “ڈیجیٹل قتل” کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ جرم انسان کرتا ہے، مگر اے آئی بغیر کنٹرول کے ایک ایسا پلیٹ فارم بنتی جا رہی ہے جو جرائم کو آسان اور تیز بنا رہی ہے۔

ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف جرائم کے نئے طریقے فراہم کر رہی ہے بلکہ انسانی سوچ اور فیصلوں پر بھی آہستہ آہستہ قبضہ کر رہی ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو مستقبل قریب میں انسان اپنی عقل، فہم اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے محروم ہو سکتا ہے اور مکمل طور پر اے آئی کے کنٹرول میں آ جائے گا۔
ماہرین اور سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فوری اور سخت قوانین بنائے جائیں، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی پر کڑی نگرانی ہو اور متاثرین کے لیے فوری انصاف کا نظام قائم کیا جائے، ورنہ آنے والا وقت انسانی معاشرے کے لیے شدید تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔