وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے استثنیٰ جو پارلیمنٹ دے رہی اس پہ اعتراض ہے، خط لکھے جا رہے ہیں، عدلیہ کی restructuring جس میں انکی آزادی پہ کوئی قدغن نہیں لگائی جا رہی اختیارات کوئی اور ادارہ نہیں لے رہا۔اس پہ objections ہیں۔
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا جسٹس منیر سے لیکر نسیم حسن شاہ اور ارشاد حسن خان اور پانامہ جج صاحبان نے جو جرائم کیے کیا خط لکھنے والوں کو اپنے ادارے کی تاریخ یاد نہیں یا وہ selective amnesia کے مریض ہیں۔ عدلیہ نے نہ صرف بھٹو کو پھانسی دی بلکہ آئین کے قتل عام کے بار بار مرتکب ہوئے۔ ایک خط لکھنے والے جج کی قانون اور آئین کی پاسداری تاریخ میں ذاتی طور پہ جانتا ہوں
He who seeks equity must do equity”
اپنے گریبان میں پہلے جھانکیں فیر چٹھیاں پاؤ