کھائیلی بائی پاس چوک میں مسلسل دکانوں کے شٹر توڑ کر سامان چوری کیے جانے لگے، تاجروں اور شہریوں میں شدید تشویش کی لہر
کھیالی بائی پاس چوک میں مسلسل دکانوں کے شٹر توڑ کر سامان چوری کیے جانے لگے، تاجروں اور شہریوں میں شدید تشویش کی لہر

گوجرانوالہ کے مصروف تجارتی علاقے کھائیلی بائی پاس مارکیٹ میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران متعدد دکانوں کے شٹر توڑ کر قیمتی سامان، بالخصوص جوتوں کی دکانوں، گارمنٹس اور موبائل شاپس سے سامان چوری کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

علاقہ مکینوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ رات گئے نامعلوم افراد تین مختلف دکانوں کے شٹر توڑ کر اندر داخل ہوئے، ایک دکان سے جوتوں کا بیش قیمت اسٹاک لے اڑے جبکہ دوسری دکان کا تالا توڑنے کی کوشش کی گئی۔ وارداتوں کی یہ نئی لہر مقامی تاجروں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر رہی ہے۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ پولیس گشت میں کمی کی وجہ سے چوروں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر موقع پا کر دکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کھائیلی بائی پاس چوک اور اردگرد کے علاقوں میں سیکیورٹی کو بہتر بنایا جائے، پولیس گشت بڑھایا جائے اور سی سی ٹی وی کیمرے فعال کیے جائیں۔

تاہم حیران کن طور پر پولیس کو تاحال اس سلسلے میں باقاعدہ اطلاع نہیں دی گئی۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کا کوئی واضح والی وارث یا ذمہ دار موجود نہیں، جس کی وجہ سے وارداتوں کے بعد بھی کوئی منظم ردِعمل سامنے نہیں آ سکا۔
تاجروں کے مطابق کئی بار مارکیٹ یونین بنانے کی کوشش کی گئی مگر کچھ عناصر کی وجہ سے ہر بار یونین نہ صرف غیر فعال رہی بلکہ مارکیٹ آج تک سرکاری طور پر رجسٹرڈ بھی نہیں ہو سکی۔ اس بدانتظامی نے علاقے کے تاجروں کو عملی طور پر بے سہارا چھوڑ دیا ہے، جس کا فائدہ جرائم پیشہ عناصر اٹھا رہے ہیں۔
وارداتوں کے دوران نامعلوم افراد تین مختلف دکانوں کے شٹر اور تالے توڑ کر اندر داخل ہوئے، ایک دکان سے جوتوں کا بڑا اسٹاک چوری کر لیا گیا جبکہ دیگر دکانوں سے بھی سامان غائب ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی تاجروں نے شکایت کی کہ مارکیٹ کے غیر رجسٹرڈ ہونے کے باعث سیکیورٹی کا کوئی نظام موجود نہیں، نہ ہی کوئی ایسا ذمہ دار منتخب ہوا ہے جو ہر واقعے کے بعد پولیس یا انتظامیہ سے رابطہ کرے۔
شہریوں اور دکانداروں نے ضلعی انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کھائیلی بائی پاس مارکیٹ کی ریگولرائزیشن، یونین کی بحالی اور سیکیورٹی سسٹم کی مضبوطی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور پولیس گشت میں اضافہ کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی چوریوں پر قابو پایا جا سکے۔