TEHRAN, IRAN - NOVEMBER 1979: While holding photos and paintings of the religious leader of the 1979 Iranian revolution; Ruhollah Musavi Khomeini, as well as other religious icons, a large group of protesters participate at the demonstration in front of the U.S. embassy during the hostage crisis which was a diplomatic crisis between Iran and the United States where 52 U.S. diplomats were held hostage for 444 days from November 4, 1979 to January 20, 1981, after a group of Islamist students took over the American embassy in support of the Iranian revolution. (Photo by Reza/Webistan). Téhéran, Iran - novembre 1979 : Un groupe de manifestants tenant un portrait du chef religieux de la révolution iranienne de 1979, Rubollah Musavi Khomeini, participe à une manifestation devant l'ambassade américaine, pendant la crise des otages. La crise des otages à Téhéran fut une crise diplomatique entre l'Iran et les Etats Unies durant laquelle 52 diplomates américains furent pris en otage par un groupe d'étudiants islamistes après qu'ils se soient emparés de l'ambassade américaine dans le cadre de leur soutien à la révolution islamique. Les otages restèrent prisonniers pendant 444 jours du 4 novembre 1979 au 20 janvier 1981 (Photo de Reza/Webistan)
رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں یومِ القدس منایا گیا، جس کے دوران ہزاروں افراد نے فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی قبضے کے خلاف مظاہرے کیے۔ رپورٹس کے مطابق ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا، کشمیر اور یمن سمیت کئی ممالک میں ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے۔ ایران کے دارالحکومت Tehran (تہران) میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اسرائیل اور امریکا کے خلاف نعرے بازی کی۔ یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب United States (ریاستہائے متحدہ امریکا) اور Israel (اسرائیل) کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو 14 دن ہو چکے ہیں۔
یومِ القدس کی بنیاد 1979 میں ایران کے پہلے سپریم لیڈر Ayatollah Ruhollah Khomeini (آیت اللہ روح اللہ خمینی) نے رکھی تھی، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور بیت المقدس کی آزادی کی حمایت کرنا تھا۔ اس سال یومِ القدس ایسے وقت میں منایا گیا جب امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں کم از کم 1,444 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei (علی خامنہ ای) بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق خطے میں جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود تہران اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں شہریوں نے یومِ القدس کی ریلیوں میں شرکت کی، جبکہ دنیا بھر میں مظاہرین نے فلسطینیوں اور ایرانیوں دونوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کشمیر میں مظاہرین نے Donald Trump (ڈونلڈ ٹرمپ) اور Benjamin Netanyahu (بنیامین نیتن یاہو) کی تصاویر والے علامتی تابوت جلائے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔
دوسری جانب United Kingdom (برطانیہ) نے تقریباً 40 برس بعد پہلی بار لندن میں یومِ القدس مارچ پر پابندی عائد کر دی۔ حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث عوامی بدامنی اور مختلف گروہوں کے درمیان تصادم کے خدشات کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔