مشرقِ وسطیٰ کے علاقوں اسرائیل اور غزہ میں اچانک اٹھنے والے شدید ریت کے طوفان نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ تیز ہواؤں کے ساتھ اٹھنے والی گرد و غبار کی دبیز تہہ کے باعث کئی شہروں میں حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق طوفان کے باعث متعدد علاقوں میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ فضا میں پھیلی گرد کے باعث سانس اور الرجی کے مریضوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں جس کے پیش نظر طبی ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام نے لوگوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریت کے اس شدید طوفان کی وجہ سے بعض مقامات پر فضائی اور زمینی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی جبکہ تعلیمی اداروں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی عارضی اثرات دیکھنے میں آئے ہیں۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طوفان صحرائی علاقوں سے آنے والی تیز اور خشک ہواؤں کے باعث پیدا ہوا ہے جو پورے خطے میں گرد و غبار پھیلا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ہواؤں کی شدت برقرار رہی تو طوفان کے اثرات مزید چند گھنٹے جاری رہ سکتے ہیں، تاہم حالات بہتر ہونے کے بعد صورتحال معمول پر آنے کا امکان ہے۔