تہران: برطانوی نشریاتی ادارے BBC Urdu کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei اپنے بیٹے Mojtaba Khamenei کے اقتدار میں آنے کے حوالے سے ماضی میں شکوک و شبہات رکھتے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے سیاسی حلقوں میں طویل عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ آیا سپریم لیڈر کے بعد قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔
بی بی سی اردو کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے طاقتور سیاسی و مذہبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تاہم علی خامنہ ای خود اس تاثر سے محتاط رہے کہ اقتدار موروثی انداز میں ان کے خاندان کو منتقل ہو۔ ایران کے سیاسی نظام میں سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار ماہرین کی اسمبلی کے پاس ہوتا ہے، جو ملک کے اہم مذہبی رہنماؤں پر مشتمل ادارہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایران میں قیادت کے ممکنہ جانشین کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں، لیکن سرکاری طور پر اس حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ مبصرین کے مطابق ایران کی داخلی سیاست، مذہبی قیادت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان طاقت کا توازن اس فیصلے میں اہم کردار ادا کرے گا۔