واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں پر آنے والے اخراجات سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق صرف ابتدائی 37 دنوں میں ہی امریکہ کو بھاری مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور دفاعی ماہرین کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں اخراجات غیر معمولی طور پر تیزی سے بڑھے۔ ابتدائی دو دنوں میں ہی اربوں ڈالر جدید میزائل سسٹمز اور عسکری کارروائیوں پر خرچ کیے گئے، جبکہ پہلے ہفتے کے اختتام تک مجموعی لاگت دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی اخراجات اوسطاً ایک سے دو ارب ڈالر روزانہ کے درمیان رہے، جس کے نتیجے میں 37 دنوں کے دوران مجموعی لاگت کا تخمینہ تقریباً 40 سے 65 ارب ڈالر کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔ اس میں فضائی حملے، جدید ہتھیاروں کا استعمال، فوجی نقل و حرکت، اور تباہ شدہ عسکری سازوسامان کی مرمت و تبدیلی جیسے عوامل شامل ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بھاری خرچ کی بڑی وجہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کا استعمال اور وسیع پیمانے پر جاری عسکری آپریشنز ہیں، جن پر روزانہ کی بنیاد پر خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے۔
ادھر معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے اثرات امریکی معیشت پر بھی نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، جہاں مہنگائی میں اضافہ اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگر یہ تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو اس کے عالمی معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ:
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں جنگی اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں، جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی مالیاتی نظام کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔