اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی کے اچانک بڑے بریک ڈاؤن نے پورے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 25 کروڑ عوام شدید اندھیرے میں ڈوب گئے۔ بڑے شہروں سمیت چھوٹے قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق قومی گرڈ میں خرابی کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہوا، جس سے ملک کے مختلف حصوں میں بیک وقت بلیک آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بجلی کی بندش کے باعث پانی کی فراہمی، ٹریفک نظام اور مواصلاتی سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔
صنعتی شعبہ مکمل طور پر متاثر ہوا جبکہ کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی سروسز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں متبادل ذرائع پر انحصار کرنا پڑا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے اور مرحلہ وار نظام کو بحال کیا جا رہا ہے، تاہم مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کے نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے بحران مستقبل میں بھی جنم لے سکتے ہیں۔
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہریوں کو اس طرح کی مشکلات سے بچایا جا سکے۔