وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایچ آئی وی (HIV) کے پھیلاؤ میں تشویشناک حد تک تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں حالیہ رپورٹ کے مطابق مزید 618 نئے کیسز سامنے آنے سے محکمہ صحت اور شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
صحت حکام کے مطابق نئے کیسز کا سامنے آنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ شہر میں وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار، آلودہ سرنجز کا استعمال، اور آگاہی کی کمی اس تیزی سے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد میں مختلف عمر کے شہری شامل ہیں، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔ محکمہ صحت نے ہسپتالوں اور لیبارٹریز کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ اسکریننگ کے عمل کو مزید مؤثر بنائیں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
ماہرین صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ محفوظ طرزِ زندگی اپنائیں، مستند طبی مراکز سے علاج کروائیں اور بروقت ٹیسٹنگ کو معمول بنائیں تاکہ اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، لہٰذا عوامی تعاون اور شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔