بچوں میں آن لائن گیمز کی بڑھتی لت، ماہرین نے والدین کو خبردار کر دیا
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں آن لائن اور ویڈیو گیمز کا بڑھتا ہوا رجحان ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی نشوونما کے لیے تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق تفریح کی حد تک گیمز کھیلنا مفید ہو سکتا ہے، تاہم ضرورت سے زیادہ استعمال مختلف نفسیاتی اور رویہ جاتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک اسکرین کے سامنے رہنے والے بچوں میں چڑچڑا پن، غصہ، جارحانہ رویہ اور بے چینی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ متعدد تحقیقات کے مطابق حد سے زیادہ گیمنگ بعض بچوں میں مار پیٹ، سخت ردِعمل اور غیر متوازن رویوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلسل گیمز کھیلنے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، پڑھائی میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے اور ویڈیو گیمز کی لت لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچے آہستہ آہستہ خاندان اور دوستوں سے دور ہو کر زیادہ وقت اسکرین پر گزارنے لگتے ہیں، جس سے ان کی سماجی صلاحیتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
ماہرینِ اطفال نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور انہیں جسمانی کھیل، مطالعہ، پینٹنگ، آرٹ اینڈ کرافٹ اور دیگر مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ ان کے مطابق والدین کی نگرانی اور متوازن طرزِ زندگی بچوں کی بہتر ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے اس کے متوازن استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ بچے تفریح، تعلیم اور سماجی زندگی کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھ سکیں۔
پاکستان اردو پوائنٹ عوام تک بروقت، مستند اور ذمہ دارانہ خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔