پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ کھو چکے ہیں، اس لیے موجودہ نظام کو ختم کر کے ملک میں نئے عام انتخابات کرائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں قومی مفاد کے لیے ایک نیشنل حکومت کی ضرورت ہے۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے قریب صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کے ایک اہم اتحادی کی جانب سے بھی وزیراعظم پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے، جس کے بعد وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق ایسا نہ ہونے سے حکومت اپنی سیاسی اور اخلاقی ساکھ کھو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ آئینی، قانونی اور جمہوری بنیادوں پر کمزور ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق عدم اعتماد کی آئینی کارروائی کے لیے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی، جبکہ نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم معاملات پر وسیع قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ قیامِ پاکستان کے بعد پہلے سیاسی رہنما ہیں جو پارٹی سربراہ ہونے کے باوجود اتنے طویل عرصے سے جیل میں ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 5 اگست سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم ٹرن آؤٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام انتخابات سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کے مطابق تین مراحل میں انتخابات کرانے کا طریقہ کار غیر آئینی تھا اور پی ٹی آئی نے عوامی مشاورت کے بعد انتخابی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے، تاہم ان کے بقول اس وقت پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) یا دیگر جماعتوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔
پاکستان اردو پوائنٹ عوام تک بروقت، مستند اور ذمہ دارانہ خبریں پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔