مئی 2025ء کی جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ٹریک ٹو سفارتکاری کے کئی خفیہ دور ہونے کا تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جس نے خطے کی سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے سابق سفارتکاروں، سکیورٹی ماہرین اور بااثر شخصیات پر مشتمل وفود کے درمیان اب تک متعدد غیر اعلانیہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں باہمی کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر غور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بیک چینل رابطوں میں حساس امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم کسی بھی پیش رفت کو باضابطہ طور پر منظرعام پر نہیں لایا گیا تاکہ سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔ مبصرین کے مطابق ایسے رابطے عموماً کشیدہ حالات میں برف پگھلانے اور باضابطہ مذاکرات کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کی جانب سے سرکاری سطح پر خاموشی اختیار کی گئی ہے، لیکن ٹریک ٹو سفارتکاری کے یہ دور اس بات کا اشارہ ہیں کہ پس پردہ تعلقات میں بہتری کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب عوامی سطح پر سخت بیانات اور سیاسی تناؤ برقرار ہے، جس کے باعث کسی بھی پیش رفت کو حتمی شکل دینا اب بھی ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ بیک چینل کوششیں کامیاب ہو گئیں تو خطے میں امن و استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، بصورت دیگر کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ بدستور موجود ہے۔